ویلنٹائن کا کاروبار- دوسرا پہلو

انیسوی صدی تک امریکہ میں ویلنٹائن سے بہت کم لوگ متعارف تھے ،سب سے انیسوی صدی میں امریکہ میں مقیم برطانویں آبادی نے نارتھ امریکہ ویلنٹائن ڈے کو متعارف کرایا،1847 میں ایستھر ہالینڈ نامی ایک خاتون نے باقاعدہ انگینڈ سے خوبصورت دیدہ زیب پیپر لیس امپورٹ کرکے ویلنٹائن کارڈ متعارف کروایاتو بہت تیزی سے پورے امریکہ میں ویلنٹائن وش کرنے کرنے کا رواج پھیلنے لگا،5 فروری 1850کو دی اسپائے اخبار میں انہوں نے اپنے اس ویلنٹائن کارڈ کے کاروبار کا پہلا اشتہاردیا اور پھر گھر سے شروع کیا جانے والا کاروبار کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، اسی لئے اس خاتون کو انٹرپرینیور کی سرفہرست میں شمار کیا جاتا ہے، 1888ء میں اپنے کاروبار سے ریٹائر ہوکر اپنی کمپنی George C. Whitney Company کو بیچ دی، جو کہ امریکہ کی گریٹنگ کارڈ اور اسٹیشنری بڑی کمپنی میں شمار کی جاتی ہے اور آج تک یہ کمپنی کارڈ چھاپ رہی ہے۔
20ویں صدی کے دوسرے نصف تک ویلنٹائن امریکہ و یورپ میں پوری طرح وائرل ہوچکا تھا، جس کے وائرل ہونے میں اہم کردار انہی خاتون کے اس کارڈ کا تھا، پھر آہستہ آہستہ کارڈز کے ساتھ گفٹ کا رواج نکل پڑا اور پھر گفٹ چاکلیٹ جیولری کارڈز کے ہمراہ دئے جانے لگے اور پھر 1980 میں دنیا کی بڑی ڈائمنڈ انڈسٹری نے ویلنٹائن ڈے کو بھر پور طریقے سے پروموٹ کیا جس سے ڈائمنڈ اور جیولری انڈسٹری کو بہت فائدہ ہونے لگا۔
آج ہماری قوم کے احساس کمتری کے شکار افراد جس اخلاص شوق و جذبے سے اس دن کو منانے اور اس کے رواج کے لئے سرکردہ ہیں کہ ان بیچاروں کو معلوم ہی نہیں کہ اس دن کے بانیان اپنے کاروبار کے لئے اس تاریخ کو استعمال کرتے رہے، آج ان کا کاروبار دنیا بھر میں دمک رہا ہے،ویلنٹائن پر انہی چند افراد کے کارڈز ، چاکلیٹ اور ڈائمنڈ آج دنیا بھر میں ان دنوں کروڑوں اربوں کے امپورٹ ایکسپورٹ ہوتے ہیں اور دوسری طرف ہماری قوم کے بے غیرت لاہورکلمہ چوک پر دوسروں کی ماں بہنوں کو زبردستی پھول تھمانے کی کوشش کرتے اور چینلز ان کی بے غیرتی کے کھل کھلا کر خبریں سنا کر بڑا اعزاز محسوس کرتے رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں