’’صدر ممنون کا عریضہ اور غامدی کی گنجائش‘‘

’’صدر ممنون کا عریضہ اور غامدی کی گنجائش‘‘

صدر ممنون حسین نے دہائی دی ہے

’’علمائے کرام قرضوں پہ سود کی گنجائش پیدا کریں’’

یارانِ نکتہ داں نے صدر ممنون حسین کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ ساتھ میں یہ گرانقدر تجویز بھی دی کہ

’’یہ گنجائش تو جاوید احمد غامدی ہی پیدا کرسکتے ہیں‘‘

کچھ ہم بھی عرض کریں۔۔!!

خدا جانے صدرِ مملکت ایسا تاثر کیوں دے رہے ہیں کہ جیسے سود یا بینکاری کے معاملے میں حضرات علمائے کرام نے گجائش آمیز خدمات کبھی انجام ہی نہ دی ہوں۔ یا تو اسے تجاہلِ عارفانہ سمجھیئے یا پھر یہ کہ صدرِ مملکت علما کے کرد ار کا اعتراف ہی نہیں کرنا چاہتے۔

دیکھیئے حضور۔!!

سود اور بینکاری کے معاملے میں سب سے بہتر گنجائشیں ملک کے مقتدر دینی ادارے بنوری ٹاؤن کے جید عالمِ دین مولانا طاسین علیہ الر حمہ نے مہیا کی تھیں۔ پھر شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثما نی صاحب اور ان کے رفقا کی اس معاملے میں ربع صدی کی مسلسل خدمات ہیں، جو کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔

خود ملاحظہ کرلیجیئے۔!!

انہی خدمات کا نتیجہ ہے کہ کل تک بینک کی زبان میں جس چیز کو سود کہا جاتا تھا آج اسی چیز کو منافع کہا جاتا ہے۔ قرض کی بروقت ادائیگی نہ کر نے پر بینک جو جرمانہ عائد کرتا تھا، کل تک اسے پینلٹی جیسا غیر اخلاقی نام دیا جاتا تھا، اب اسے الحمدللہ چیریٹی جیسے پاکیزہ متبرک معطر اور مقدس نام سے پکارا جاتا ہے۔ اسی طرح بینکاری میں استعمال ہونے والی دیگر مغربی اور مکروہ اصطلاحات کو ختم کر کے، اس کی جگہ مضاربت اور مشارکت جیسی خالص شرعی وفقہی اصطلاحات رائج کردی ہیں۔ صدرِ ممکت کو اندازہ نہیں ہوگا، مگر انہیں خبر ہو کہ یہ گنجائش آفرین خدمات اس قدر سنجیدگی اور خلوص سے انجام دی جارہی ہیں کہ بینکوں نے لائق فائق اور پرہیزگار و پارسا شرعی ایڈوا ئزرز ہائر کر لیئے ہیں۔ یہ شرعی ایڈ وائزرز الحمدللہ وفاق المدارس العربیہ الباکستان کے سند یافتہ ہوتے ہیں۔ ان شرعی ایڈوائزرز کی نوکری پہ حرف گیر ہونا اس لیئے بھی جائز نہیں ہوسکتا کہ بینک کے باقی ملاز مین کو منتھلی سیلری ملتی ہے اور انہیں ماہانہ وظیفہ ملتا ہے۔

اندازہ کیجیئے ذرا۔!!

وہ بینک جو کل تک سود اور حرام کے بے نور و بے کیف اڈے بنے ہوئے تھے، وہ آج انہی ایڈوائزرز کے وجودِ مسعود کی وجہ سے خانقاہوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ جن بینکوں سے کبھی سودی نوٹوں کی پھیکی مہک اور ایزی میاکے جیسے غیر شرعی پرفیومز کے بےسود بھپکے اٹھتے تھے، وہاں سے آج عود وعنبر اور مشک و زعفران جیسی روحانی عطروں کی دھیمی دھیمی سی مہک اے سی کی ہوا میں تحلیل ہوکر تمام سودی کولیگز کو بلا تمیزِ رنگ ونسل روحانی بالیدگی عطا کر رہی ہے۔ اس پر اگر امتِ مسلمہ شکر نہ بھیجے، تو پھر بتایئے کہ زلزلے کیوں نہ آئیں۔

خیر۔۔!!

اگر صدرِ مملکت علمائے کرام و مشائخ عظام کی ان خدمات سے لا علم ہیں، تو پھر اس حقیقت سے بھی لاعلم ہی ہوں گے کہ گزشتہ برسوں میں علما ئے کرام نے پاکستان میں ’’مضاربت’’ کے نام سے برصغیر کی سب سے بڑی اصلاحی تحریک چلائی۔ اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان جو دولت کی ریل پھیل کی وجہ سے اللہ کی یاد سے غافل ہو چکے ہیں، ان کو دولت کی اس لعنت سے چھٹکارا دلواکر یکسوئی کے ساتھ نفس کے تزکیئے پہ لگا دیا جائے۔ چنانچہ بہت کم وقت میں انہوں نے بیسیوں مضاربت فائنانس کمپنیاں تشکیل دیکر لاکھوں پاکستانیوں کو کھربوں روپے کی لعنت سے پاک صاف کر دیا۔ صدرِ مملکت کیوں نہیں سمجھ پارہے کہ یہ سب علمائے کرام کی ماہرانہ شرعی اعداد و شمار سے ہی تو ممکن ہوا تھا۔ اس سے پہلے دستیاب انسانی تاریخ میں تطہیرِ اخلاق و تطہیرِ اکاؤنٹ کی ایسی کوئی تحریک چلی ہو، تو صدرِ مملکت بتادیں۔ آج بھی حکومت سروے کروا کر معلوم کر سکتی ہے کہ علمائے کرام کی ان فائنانس کمپنیوں کی انتھک محنت کے نتیجے میں کیسے کیسے غافلوں کو اللہ یاد آیا۔ ایسا یاد آیا کہ پھر نیند میں بھی نہیں بھولے۔

حیرت زدہ ہوں میں۔!!

اس کا تو سیدھا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ صدرِ مملکت جیسے غافل بزر گ کو یہ بھی نہیں پتہ ہوگا کہ کل تک اس ملک میں جو چیز لائف انشور نس کے نام سے رائج تھی، اب اسے بفضلِ خدا امتِ مسلمہ تکافل کے نام سے جانتی ہے۔ صدرِ مملکت کو خبر ہو کہ تکافل کی کمپنیوں میں بھی اہم امور کی انجام دہی کیلئے وفاق المدارس ہی کے سند یافتاوں کی خدمات لی جاتی ہیں۔ انشورنس کمپنیوں نے معاذ اللہ بروکرز رکھے ہوئے تھے جبکہ تکافل کمپنیوں نے الحمداللہ مبلغین رکھے ہوئے ہیں۔ بروکرز صرف پیدا گیری کیلئے لوگ گھیرتے تھے اور مبلغین نے تزکیہ نفس کی خاطر گھیراؤ کی روایت ڈال دی ہے۔ یہ سب دنیا کو نظر کیوں نہیں آتا۔؟ میڈیا ان خدمات کو عوام کے سامنے کیوں نہیں لاتا۔؟

اے میرے منموہنے صدرِ مملکت۔!!!

آپ کو اور کتنی گنجائشیں چاہیئں۔ اور کتنی خدمات درکار ہیں۔ شکر کیوں نہیں بھیجتے، کہ نعمت میں اضافہ ہو۔ بخدا دکھ ہوا۔ ہم آپ کے ان محسن کش الفاظ کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے کہے پہ توبہ کیجیئے۔ استغفار کیجیئے ۔ ممکن ہو تو تجدیدِ نکاح بھی کیجیئے۔

استدعا۔!!

جو حضرات جاوید احمد غامدی کا نام گنجائشی خدمات کیلئے پیش کر رہے ہیں، وہ اکابر علمائے کرام کی گستاخی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ایک فاسق و فاجر اور غیر متشرع عالم کا نام پیش کرنے کے بجائے انہیں اپنے علما کی مذکروہ خدمات کو سامنے لانا چاہیئے۔ نادان دوستوں والا کردار مت نبھایئے کہ اس کی سخت پکڑ ہے۔ 

رہے بس نام خدا کا۔ !!!

اپنا تبصرہ بھیجیں