حسینہ واجد کا جہاد – فیض اللہ خان

جو کچھ حسینہ واجد کر رہی ھے اسے اس بات کا اختیار بنگلہ دیش کا آئین و قانون دیتا ھے ،پاکستان کے حوالے سے حسینہ کا ایجنڈا کبھی بھی ڈھکا چھپا نہیں رہا عوام نے اسے ووٹ ہی اسکے نعروں پہ دئیے تھے ، ایک سیکیولر بنگلہ دیشی کی نظر سے دیکھیں تو وہ پاکستانی فوج کے مددگار بنگلہ عوام کے قاتل اور خواتین کی عصمت دری کرنے والوں کو لٹکا رہی ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ الگ بحث ھیکہ اسوقت انہوں نے پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑی تھی ، رہی یہ دھائی کہ پاک و ھند سرکاروں کے معاھدے کے مطابق 1971کے جنگی مجرموں { پاکستان کے مددگاروں } کیخلاف بنگلہ دیشی حکومت کوئی مقدمہ نہیں چلائے گی تو ایسی بات سوائے خود کو اطمینان دلانے کے کچھ نہیں ، جناب دنیا میں دو ہی کردار ہوتے ہیں ایک فاتح دوسرا مفتوح ۔۔ ہم مفتوح تھے جبھی سرنڈر بھی ہوئے اور قید بھی ، البتہ جو جماعت اسلامی کی شکل میں بنگال ہی میں رہ گئے ، انہیں اپنے نظر یئے کی قیمت تو چکانی پڑے گی کیونکہ یہی مہذب دنیا کا اصول ھے { باقی اچھی طرح غور و خوص کرلیں کہ مزید بھی ساتھ دیں گے کہ نہیں } ۔۔۔ ان حالات میں کئے گئے تمام معاھدوں کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے سے بڑھ کر نہیں ہوتی جنہیں آپ صرف عجائب گھر کی زینت بنا سکتے ہیں اس سے کچھ کام کی بات نکال نہیں سکتے ، ہاں یہ ضرور ھیکہ اس معاھدے کے باوجود مہذب یورپ و امریکا اور عالمی اداروں کی خاموشی { ایک آدھ ٹوں ٹاں کے علاوہ } بڑے مزے کی ھے کیونکہ انسانی حقوق کا کنٹریکٹ رکھنے کے باوجود انکا گم صم رھنا ہمارے لبرل دوستوں کی بھی پریشانیوں میں زرا سا اضافہ کردیتا ھے ، مگر ڈھیٹ ہونے کیوجہ سے وہ آرام سے دوسری راہ اختیار کرلیتے ہیں باقی بچے اسلام پسند تو وہ صرف غائبانہ نماز جنازہ ہی پڑھ سکتے ہیں یہی انکے بس میں ھے یا پھر کوئی ننھنا سا احتجاج ہو جائیگا ، کبھی کبھی بنگالیوں پہ رحم بھی آتا ھے وہ پاکستان کی سول و ملٹری اشرافیہ کے مظالم کے باعث پاکستان سے الگ ہوئے اور اسکے بعد جتنی بنگلہ دیشی خواتین کی اسمگلنگ ہوئی اسکی مثال مشکل سے ملتی ھے آزادی کا یہ سفر ایسا تھا کہ برصغیر کے سب سے بڑے ملحد و مسلم سیکیولرز یہیں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور آج بنگالی سیکیولرز و ملحداپنی اصلی شناخت کیساتھ محسن انسانیت نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں آذادی اظہار کے نام پہ توہین و غلاظت کا وہ بازار وہاں گرم رکھا گیا ھے وہاں باقاعدہ بلاگرز کو قتل کرنا پڑا ھے { پاکستان میں کسی کو کم از کم سرعام یہ سب کرنے کی جرات نہیں } بنگالیوں نے خود ہی قوم پرستی یا سیکیولر ازم کو چنا ، دین جمہوریت کی روشنی میں پرکھا جائے تو اس فیصلے کو جمہور کی تائید حاصل ھے سو اس پہ اعتراض جہالت قرار پائیگا ، بلاشبہ وہاں اسلام پسند بھی کافی ہیں لیکن معذرت کیساتھ عرض ھیکہ تبلیغی جماعت کے بڑے اجتماع سے اس سیکیولر نظام کو کیا خطرہ ؟؟؟ انفرادی اصلاح کی یہ کوشش قیامت تک جاری رھنے کا امکان ھے لیکن اسکے نتیجے میں ریاستیں نہیں بدلیتیں ۔ بس یاد رھے ہم جس دنیا کے باسی ہیں وہاں امن انصاف اور قانون کی بالادستی کا خواب محض خواب ہی رھے گا یہ اصطلاحات ٹرک بتی سے زیادہ کی حیثنت نہیں رکھتیں یہ اور بات ھیکہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ یوں ہی سرپٹ دوڑے جانا ھے یا اس فریب سے باھر بھی نکلنا ھے ؟؟؟ ویسے اگر کل کو کسی نے حسینہ واجد کو شہید کردیا تو وہ تو پکی دھشتگردی ہی کہلائے گا نا بھایئوں ؟؟؟؟؟؟ کیونکہ جہاد و قتال تو حسینہ سرکار کررہی ھے ؟؟؟؟؟ 

جان کی امان پاتے اور نا چاھتے ہوئے بھی ایک گلہ جنرل شریف سے بنتا ھیکہ جناب والا، آپ تو ساری دنیا کو دھشت گردوں سے ختم کرنے کے انتہائی اہم مشن پہ مامور ہیں زرا ایک آدھ فون حسینہ جی کو بھی لگا دیں ، جہاں آپ دنیا جہاں کے دورے کرتے ہیں ایک بنگال کا بھی صحیح ، شاید ہماری جوھری قوت اور آپکی بارعب شخصیت سے ڈر کر وہ مزید کسی ایسے شخص کو پھانسی نا چڑھائے جس نے کبھی آپکے فریضے میں رضاکارانہ طور پہ مدد کی تھی ھند کیخلاف جنگ کی تھی ، اگر یہ بھی ممکن نہیں تو حسینہ کی شکایت ابامہ صیب کو ہی لگادیں کیا پتہ حسینہ ان کی مان لے، اور کام بن جائے ؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں