ایران سعودی تعلقات: ایک نظر

ایک طویل جنگ کے بعد آل سعود 1928 میں بالآخر حجازسے اپنے دشمنوں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوئے اور ایک نئے سعودی عرب کی بنیاد رکھی۔

انیس سو اٹھائیس میں ہی ایران اور سعودی عرب کے درمیان نئے تعلقات کی ابتداہوئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا اور اپنے اپنے سفیرمقررکئے۔ تقریبا پندرہ سال تک یہ تعلقات خوشگوار رہے۔ لیکن 1943 میں ایک واقعہ رونما ہوا جس کی وجہ سے تین سال تک دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کا سفارتی بائیکاٹ کئے رکھااور یوں پہلی بار ایران اورسعودی عرب کے مابین کشیدگی واقع ہوئی۔ ہوا یہ کہ سعودی حکومت نے ایک ایرانی زائر پر الزام لگایا کہ اس نے بیت اللہ کی دیواروں پر گندگی مل دی ہے۔سزا کے طورپر حکومت نے اس شخص کاسر قلم کردیا۔ایران سعودی عرب کے اس اقدام پر برہم ہوگیا۔اس کا موقف یہ تھا کہ ایرانی زائر نے جان بوجھ کرایسا نہیں کیا بلکہ اسے طواف کے دوران اچانک قے آگئی تھی جس کی وجہ سے بیت اللہ کی دیوار متاثر ہوئی۔

1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ایران نے سرکاری سطح پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کافیصلہ کیاجبکہ سعودی عرب نے تسلیم کرنے سے انکارکردیااور ایران کے خلاف بیانات دینے شروع کردئے کہ وہ خائن ہے اور یہود کا ہمدرد ہے۔اسکے بعد دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات تو برقرار رکھے مگر ساتھ میں نفرت بھی پالنی شروع کردی۔کیونکہ فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کا ایمانی اورجذباتی مسئلہ تھا۔

عداوت کے باوجود دونوں ملک اس بات سے بھی بخوبی واقف تھے کہ زیادہ دوریاں مشرق وسطی میں بدامنی کاباعث بنیں گی۔لہذا رضا شاہ پہلوی نے سعودی عرب کا خیرسگالی دورہ کیا اور جواب میں شا ہ فیصل نے بھی ایران یاترا کی اور اسلامی وحدت کی بقا پر زوردیا۔

تعلقات کا ایک اور موڑ اس وقت آیا جب برطانیہ بحرین سے اپنا تسلط ختم کرکے رخصت ہوا۔ بحرین کی اکثریتی آبادی شیعوں پر مشتمل ہے لہذا ایران کی خواہش تھی کہ بحرین پر اس کا اثرورسوخ ہو۔ مگر بحرین کے شاہی و حکومتی عہدوں پر سنی یراجمان تھے۔سعودیہ نے شیخ عیسی جوکہ بحرین کے کرتا دھرتا تھے کو اپنے ملک دعوت دی جسے انہوں نے قبول کیا۔رضاشاہ اس پر ناراض ہوگیا۔اس نے بحرین پر حملے کی دھمکی دے ڈالی۔شاہ فیصل نے اسے مذاق میں اڑادیا اور کہا رضاشاہ ابھی بچہ ہے۔

بعد میں رضاشاہ کو احساس ہوا کہ اس نے غلط کیا ہے۔اس نے شاہ فیصل کو خط لکھا کہ وہ ایتھوپیا جارہے ہیں راستے میں آدھے گھنٹے کے لئے جدہ رکیں گے۔ وہ آئے تو شاہ فیصل نے ایسی محبت نچھاور کی کہ وہ شیڈول کے برخلاف پانچ گھنٹے تک گپ شپ کرتے رہے اور معاملات نارمل ہوگئے۔

1973 میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔مشرق وسطی آگ کے دہانے پر کھڑاتھا۔عرب اسرائیل کو ہرطرح سے کمزور کرنا چاہتے تھے۔ اسرائیل کو تیل ایران فراہم کررہا تھا۔ سعودی عرب نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ تیل کی ترسیل بند کردے۔ ایران نے انکارکردیا اورکہا تیل کمپنیاں بیچتی ہیں نہ کہ ایرانی حکومت۔ یہ ایک روکھا جواب تھا۔ سعودی عرب اسے آج تک نہیں بھولا۔

یہاں تک دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت اتنی سنگین نہیں تھی۔اونچ نیچ کے باوجود دونوں ملکوں نے ربط کا دھاگا ٹوٹنے نہیں دیا۔اورمزید یہ کہ اختلافات کو سنی شیعہ کا رنگ نہیں دیاگیا بلکہ ملکی اور سیاسی حد تک رکھاگیا۔

1979 میں خمینی انقلاب آیا۔یہ انقلاب خالص مذہبی تھا۔خمینی اسے اسلامی انقلاب کہتے رہے۔لیکن انکے دستوری اور عملی اقدامات اس کی نفی کرتے تھے۔ اس انقلاب کا فائدہ یہ ہوا کہ شیعہ جو خود کو تاریخ میں مظلوم طبقہ سمجھتے آرہے تھے انکے لئے ایران ایک نوید تھا۔انہوں ایران کے تحفظ اور اس کی اطاعت کا عہدکیا۔

خمینی نے سب سے پہلے اسرائیل سے قطع تعلق کیا اور ایسا آئین وضع کیا جو قومی بھی ہو اور اسلامی بھی۔

آل سعودنے ایرانی انقلاب کی سب سے بڑھ کرمخالفت کی اور پوری مسلم دنیا میں شیعہ مخالف عناصر کی مدد کرنا شروع کردی۔یہ دیکھے بغیر کہ اس سے کتنے ملکوں کاامن تباہ ہووگا۔

اسکے بعد صدام نے ایران پر حملہ کردیاجسے خلیجی ریاستوں خصوصا سعودیہ نے خوب سراہا۔اس جنگ نے شیعہ سنی اختلاف کو اور زیادہ بھڑکادیا۔جنگ کے بعد مشرق وسطی میں ایرانی عربی ہر اختلاف کو فرقہ واریت کی عینک سے دیکھا جانے لگا۔

خمینی کے بعد خاتمی اور رفسنجانی دو دو بار صدر منتخب ہوئے۔انہوں نے اپنے تمام تر اختیارات اور وسائل استعمال کرکے شیعہ سنی اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کی اور وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ان کے دور میں سعودی ایرانی تعلقات ایک بار پھر معمول پر آگئے۔

دوہزارتین میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا۔اسکے کچھ عرصے بعد احمدی نژاد ایران کے صدرمنتخب ہوگئے۔احمدی نژاد نے عراق کو اپنی ہتھیلی پر دیکھا تو انتقام اورنفرت کی بجھتی چنگاری کو یوں پھونک ماری کہ مشرق وسطی جہنم بن کر رہ گیا۔

عراق خلیج کادروازہ ہے۔سعودی عرب ہر حال میں ایران کو عراق میں شکست دیناچاہتا ہے جبکہ ایران شام سے دستبردار ہوسکتا ہے مگر عراق سے کبھی نہیں کیونکہ یہ شیعوں کے لئے تاریخی ومذہبی اہمیت کاحامل ہے۔اس کشمکش میں سعودی عرب اور ایران براہ راست جنگ پر تو نہیں اترے مگر اپنی اپنی پالی ہوئی مسلح تنظیموں کے ذریعے میدان میں کودپڑے۔شام کے مسئلے بعد جنگ کا دائرہ وسیع ہوتاچلاگیا۔اب حالت یہ ہے کہ دونوں ملک بھاگ بھاگ کر بڑی طاقتوں کی حمایت حاصل کرنے میں لگے ہیں۔بدلے میں جو طلب کیا جاتا ہے نچھاور کیاجارہا ہے۔حتی کہ وہ وسائل جن کے لئے لڑائی لڑی جارہی ہے عالمی طاقتوں کو طشتری میں رکھ کر بصد ادب پیش کئے جارہے ہیں۔

سترہویں صدی میں یورپ میں عیسائی پرٹسٹنٹ اور کیتھولک فرقوں کے درمیان خانہ جنگی ہوئی جو تیس سال تک جاری رہی۔اس جنگ میں جرمنی کی تیس فیصد آبادی مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھادی گی۔اسی طرح دوسرے یورپی ملکوں میں بھی لاکھوں لقمہ اجل بنے۔مگر کیتھولک آج بھی باقی ہے،پرٹسٹنٹ آج بھی زندہ ہے۔

مشرق وسطی میں بھی اسی طرح کی مقدس جنگ جاری ہے۔نہ معلوم دو ملکوں کاعناد کتنوں کو موت کے گھاٹ اتارے گااور کتنے شہر ملیامیٹ ہونگے۔ہاں ایک بات مگر واضح ہے کہ نہ شیعت کو صفحہ ہستی سے مٹایاجاسکتا ہے اور نہ سنیت کو درگور کیا جا سکتا ہے۔

البتہ صفین کی طرح یہ جنگ بھی سالہاسال تک نفرت کاایندھن مہیا کرتی رہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں