پیرس سانحے کی رات اور بوسٹن کا ٹیکسی ڈرائیور

بوسٹن امریکہ سے تعلق رکھنے والی خاتون گیانا اسکولہ کے ہاتھوں بوسٹن کی ایک سڑک پر محفوظ کیے گئے اس لمحے نے گیانا کو سوچنے پر مجبور کردیا، گیانا یہ تصویر اپلوڈ کرنا نہیں چاہتی تھی اس ڈر سے کہ کہیں یہ تصویر تنازع کا شکار نہ ہوجائے..مگر دوستوں کے اصرار پر انہوں مختصر الفاظ میں پس منظر کے ساتھ یہ تصویر اپلوڈ کردی،

اس تصویر کا پس منظر بتاتے ہوئے گیانا لکھتی ہیں کہ: ”جمعہ کی رات 9 بجے کے قریب  پیرس حملے کی پہلی اطلاع جب مجھ تک پہنچی عین اسی لمحے بوسٹن کی سڑک پر میں نے یہ منظر دیکھا کہ ایک مسلمان ٹیکسی ڈرائیور اپنی ٹیکسی سڑک کنارے روکتا ہے،جائے نماز بچھاتا ہے، جوتے اتار کر اپنے کنارے رکھتا ہے اور نماز پڑھنا شروع کردیتا،میں اس لمحے کی تصویر اتار کے گستاخی نہیں کرنا چاہتی تھی، نا ہی میں اس کی نماز میں خلل ڈالنا چاہتی تھی، جیسے تیسے کرکے میں اس لمحے کو محفوظ کئے بنا نہیں رہ سکی.اس منظر کو دیکھتے ہی میں نے پیار اور ہمدردی کا حد سے زیادہ احساس محسوس کیا،میں نے انسانیت دیکھی، امید کی

کرن دیکھی اور محبت دیکھی،میں نے دیکھا ایک بندے کا اپنے رب سےتعلق اور لگن“.

paris

بہرحال میں یہ تصویر اپلوڈ نہیں کرنا چاہتی تھی مگر میرے دوستوں کو بھی یہ تصویر پراثر محسوس ہوئی تو ان کے اصرار پر اپلوڈ کی. 

نوٹ: گیانا اسکولہ ٹیکسی ڈرائیور کو نہیں جانتی اور نا ٹیکسی ڈرائیور کو اس تصویر کا علم ہے، ٹیکسی ڈرائیور کے ایک قریبی عزیز سے اتفاقا سوشل میڈیا پر رابطہ ہوا تو معلوم ہوا کہ فاکر گل نام کے ان صاحب کا تعلق پاکستان کے صوبی خیبر پختونخواہ سے ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں