ہمارے دینی مدارس۔۔۔کچھ خوشگورا پہلو (محمد حسن)

ہمارے دینی مدارس۔۔۔کچھ خوشگورا پہلو   (محمد حسن)

مجھے مستقل چھ سال دینی مدارس میں پڑہنے کا شرف حاصل رہا .

مدارس کا ایک رخ تو فکری ہے. اس نظام فکر پر ہم ہمیشہ بات کرتے ہیں.اور اس سے اپنے اختلاف کا اظہار بھی کرتے ہیں 

لیکن 

اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ ہے

تہذیبی پہلو 

.آج اس پہلو پر بات کرنے کا دل ہے. 

میری زندگی کے خوشگوار ترین ایام وہ ہیں جو ان مدارس میں گزرے .دینی مدارس کا ماحول اپنے اندر ایک سحر اور جاذبیت رکھتا ہے, وہاں کی سرگرمیاں آپ کو اپنے حصار میں لے لیتی ہیں. ڈاکٹر منظور صاحب نے کہیں لکھا تھا برصغیر کے اندر ادب و تعزیم کی روایت اصلا مغلیہ دور کا رہن سہن ہے. دینی مدارس میں اسی تعظیم کی چھلک دیکھنے کو ملتی ہے. استاد کی عزت و تکریم, آلات علم کا احترام, پست آواز میں گفتگو ,بڑوں کو دیکھ کر راستہ بدل لینا ,سلام میں پہل کرنا اور سب سے بڑہ کر ساتر و محتشم جامہ زیبی .

یہ تاثر بھی غلط ہے کہ مدارس کے ماحول میں کسی طرح بھی نقطہ نظر کے اختلاف کی گنجائش موجود نھیں .جب تک روایت سے کلی اور علی اعلان انحراف نہ کیا جائے , بات کہنے کا موقع میسسر رہتا ہے .

مجھے یاد ہے میں نے پہلے سال بزم میں اپنے مدرسے کی مسجد کے مہراب میں کھڑے ہو کر بھٹو صاحب کی سماجی, جمہوری اور سیکولر خدمات پر تقریر کی.

اسی طرح ایک دفعہ مفتی تقی عثمانی صاحب کے پی سی او پر حلف لینے کو اپنے کالم میں خلاف اسلام لکھا.مسلح جدوجہد پر اساتذہ سے بہت اختلاف کیا .

ہمارے ایک بہت شفیق استاد تھے ,جنہیں نہیں بھولتا ,مفتی عبد الکریم ,بوڑھے اساتذہ کی شفقت کیا بے مثال ہوتی ہے .پہلے دن آئے تو کہنے لگے 

طالبو!

ابن حاجب نے کہا ہے

ایاک والکتب !

(باہر کی) کتابیں پڑہنے سے بچو 

پھر کہا استاد سے زیادہ سوال نھیں کرنا چاہیے ,

ان کا جملہ ختم نھیں ہوا تھا کہ میں نے کہا استاد جی ایک سوال ہے !

مسکرائے اور کہا پوچھو !

پھر شاید ہی کوئی دن ہو جب سوال و جواب نہ ہوا ہو!

کیا خلیق و نستعلیق شخصیت تھے .

کبھی کبھی تنگ آکر کہتے 

“بھئی تو لڑ جا کر اکابر سے “

میں تو اسی اصول پر زندگی گزار رہا ہوں

فاسلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلون 

علم والوں سے پوچھوں اگر معلوم نہ ہو.

عرض کرتا استاد جی پوچھنے کا کہا گیا ہے ماننے کا نھیں .سمجھ میں آئے گی تو مانینگے …

جوابا :کبھی تلخ جملہ تک نھیں کہا ,بس مسکراتے رہتے .

دینی مدارس میں طالب علموں کی فکری نشو نما کے موضوع کو ایک طرف رکھ کر اگر ان کی محنت پر نظر دوڑائی جائے تو حق یہ ہے کہ کسی فنی موضوع میں پی ایج ڈی کرنے والے طالب علم بھی اتنی محنت نھیں کرتے ہونگے جتنے مہنتی مدارس کے طالب علم ہوتے ہیں .

جاں گسل جدوجہد ,چٹائی توڑ محنت ,چربی گھلانے والی سعی اور کمر دکھانے والی نشست . 

اس سب کے باوجود انتہائی درجے کی سادگی .رویوں میں کوئی مصنوعی بناوٹ نہیں.کوئی ملمع سازی و زخرفیت نہیں .

مجھے کبھی نھیں محسوس ہوا یہاں طالب علم آپس میں کوئی تفاخر و تکبر کا جذبہ رکھتے ہوں.

انما المومنون اخوۃ .ایک دوسرے کے خیر خواہ, کوئی چپقلش نھیں.

وہاں موجود ملازمین بھی اپنی توقیر محسوس کرتے ہیں. 

فکری معاملے قدرے شدت بھی ان کی دیانت اور سچائی انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے.

دعوت دین کی 

متاع درد و سوز ,عبادت کی پابندی,سحر خیزی,قناعت, شکر گزاری اور صبر اور خدمت کے جذبے سے سرشار ….

قوم کے وہ غیر معمولی ذہن جو اپنی ذات کی خواہشات سے اوپر اٹھ کر ملت و قوم کے لیے سوچتے ہیں. 

قابل داد جذبہ ! 

دینی مدارس کی سماجی زندگی انہی صفات سے عبارت ہے .

اساتذہ کی زندگی بھی بڑی دلچسپ ہے. 

کئی پوشیدہ خرد افزور ہوتے ہیں. خود تو تنقید مناسب نہیں سمھجتے لیکن طالب علموں کو مہمیز دیتے رہتے ہیں اور ہمت بڑہاتے ہیں. 

اساتذہ کی آمدن کو اگر دیکھا جائے حیرت میں ڈوب جائیں. جتنے کا ہم دوستوں کے ساتھ کسی شب مطعم میں کھانا کھاتے ہیں

ان کی ماہانہ آمدن اس سے بھی کم ہے ! 

لیکن کبھی اس معاشی تنگی کا نالہ سنا نہ پیشانی پر شکوہ کے بل دیکھے , اور ایسی ثابت قدمی کے اپنے کام میں انہماک اور یکسوئی سے لگے ہوئے ہیں, نہ حشمت و جلال کی آرزوں میں سرگرداں اور نہ ہی اپنے کام سے خفا اور دل گرفتہ .

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اپنی کسی پریشانی کا غصہ کلاس میں نکالا ہو, 

اور بے تکلف تبادلہ خیالات ,

ایک دن ایک استاد کلاس میں آئے تو پوچھا سبق کہاں سے ہے, بتایا,اسے کھول کر پڑہنے لگے, غالبا پہلے نہیں دیکھا تھا ,

ایک طالب کھڑے ہو کر کہنے لگا استاد جی آپ ذرا مطالعہ فرما لیں میں جب تک چائے پی کر آتا ہوں, استاد مسکرائے اور کہا ہمیں نہیں پلاو گے!! , 

چائے سے ایک بات یاد آئی ایک صاحب نے بتایا کہ 

مفتی رفیع عثمانی صاحب ایک دن درس دے کر نکلے کہ پیچھے ایک چھوٹی کلاس کا پٹھان طالب علم دوڑتا ہوا آیا, 

کہنے لگا, 

مفتی صیب دل چاہتا اے آپ کو چائے پالائے لیکن آپ مصروپ آدمی ہے اور وقت امارے پاس بھی کوئی نھیں,یہ دس روپے لے لو , سات کا چائے اور تین کا بسکُت اماری طرپ سے ,

مفتی صاحب کہتے ہیں اس سے زیادہ پرخلوص تحفہ مجھے کبھی کسی نے نھیں دیا… اور وہ نوٹ آج بھی ان کے پاس محفوظ ہے…..

ہر محرومی دراصل دوسروں کو نعمت کی قدر بتا رہی ہوتی 

سیدنا مسیح سے ایک شخص نے پوچھا ,

یہ خدا نے اندھے کیوں پیدا کیا ,

مسیح بولے :تاکہ بینا دیکھ سکیں …..

اور خدا جب نعمت کم کرتا ہے تو سوال بھی کم ہی کا ہوتا ہے 

دینی مدارس کو اللہ کی جو سب سے بڑی نعمت مییسر ہے وہ ہے “محرومی کی نعمت”

یہ محرومی جہاں دنیا میں مشکلات کا باعث بنتی ہے وہیں بہت ساری آزمائشوں اور امتحان سے انسان کو بچا لیتی ہیں.

حق یہ نہیں کہ آدمی اس محرومی کا رونا روئے اور احساس کمتری کا شکار ہو بلکہ کمال یہ ہے کہ وہ سوچے اسے ایک محرومی دے کر کتنے اور امتحانوں سے رخصت دے دی گئی ہے اس محرومی میں لطف محسوس کرے. اور اہنے اخلاقی وجود کو ناپاک نہ ہونے دے .

.گرمیوں کے دن تھے ,مختصر المعانی کا سبق جاری تھا ,استاد حسب معمول پڑھا رہے تھے لیکن آج ان کی طبیعت میں بشاشت نہیں تھی, مجھے محسوس ہوا, ان کی آواز مدہم ہونے لگی,رنگ بدل گیا, 

دیکھ کر کہنے لگے دل کو کچھ ہورہا ہے, 

گاڑی ہے, ہسپتال لے چلو ,

میں فورا اٹھا اور انہیں سہارا دے کر ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا. ٹیسٹ کیے گئے, معلوم ہوا معاملے ٹھیک نھیں ایمرجنسی میں رکھنا پڑے گا. 

نرس نے میرے کان میں آکر کہا, پیسے جمع کروادیں, میں نے غالبا تین ہزار روپے کی معمولی رقم تھی , دے دیئے .

استاد کی طبعیت سنبھلی تو ہم واپس مدرسے آگئے.

مجھے بھول بھی گیا کچھ ادا کیا تھا.کئی دن گزر گئے 

کہ وہی استاد راہ چلتے مجھے ملے اور کہا بھئی کئی دن بوجھل گزرے لیکن تنخواہ آج ملی ہے لفافہ پکڑا کر چل دیئے .

کھولا تو اس میں تین ہزار روپے تھے, 

ششدر رہ گیا ایک آدمی کی خوداری پر کہ اسے اتنا معمولی احسان لینا بھی گوارا نھیں اگرچہ اپنی آدھی تنخواہ دینی پڑے.مستقبل کا کوئی اندیشہ اسے پریشان نہیں کرتا! 

احساس ہوتا تھا,ان مطمئن قلوب کا ڈاکٹر اور کیا علاج کرینگے!

میں اکثر جب یہ جملہ سنتا ہوں کہ 

یہ مدرسے تو ہماری زکوۃ پر پلتے ہیں. تو روح کانپ جاتی ہے 

یہ جملہ ہمارے ماحول میں کیسے بے تکلف استعمال کیا جاتا ہے, 

کبھی پلٹ کر ہم نے غور نھیں کیا ہم کیا کہہ رہے ہوتے ہیں,

کیا ہم کسی بیورکریٹ کو یہ کہنے کی ہمت کر سکتے ہیں تم میرے ٹیکس پر پلتے ہوئے اور نہ صرف یہ بلکہ عیاشیاں کرتے ہو ,اس ٹیکس پر جو زبردستی لے لیا جاتا ہے.

جو کام سوسائٹی کا فخر ہونا چاہیے اسے وہ الزام بنا دیں .

جس طرح ایک معاشرے میں اچھے سائنس دانوں کی ضرورت ہے ایسے ہی موت و حیات کی سائنس کو حل کرنے والے علماء بھی ہوا پانی کی طرح انسان کی ضرورت ہیں, یہ سوسائٹی کا احسان نھیں بلکہ فرض ہے کہ وہ اپنی فکری نشو نما کے لیے ان لوگوں کو معاشی فراغت دیں, جو آپ کے لیے اپنی زندگی وقف کر چکے ہیں …

کتنے دکھ کی بات ہے اگر ہم اپنے کسی ایسے سائنس دان کی بے توقیری کریں جس نے اپنی پوری زندگی ایک ایجاد کے لیے وقف کردی ہو, سوچیں اسے کیا محسوس ہوتا ہوگا …کیا اس کا دل نہیں چر جاتا ہوگا… 

لاہور کے ایک مدرسے کے مہتمم صاحب کے پاس محلے کے ایک سیٹھ آئے اور کہنے لگے, نیا گھر لیا ہے, 

ختم کروانا ہے ذرا بچے دن میں بھیج دیں.

مولانا نے فرمایا یہ وقت ان بچوں کے آرام کا ہے,

نہیں آسکتے. 

سیٹھ صاحب بولے, مولانا ایسے کیسے نہیں آسکتے ,میں نے مدرسے کی بڑی معاونت کی ہے.اب ہمارا کام پڑا ہے تو آپ. 

مولانا نے کہا سونے کا وقت ہے!

سیٹھ صاحب غصے میں اٹھ کر چلے گئے اگلے روز جمعہ کا دن تھا, مولانا سارے مجمع کے سامنے حساب کا رجسٹر لے کر منبر پر آ کر بیٹھ گئے اور کہا, 

اب تک آپ لوگوں نے ادارے کو اتنی اتنی رقم دی ہے ,ہم سمجھے تھے اللہ کی راہ میں دی, معلوم ہوا, ہمیں نوکر سمجھ کر دی, اپنی رسید لے آئیں اور رقم واپس لے جائیں میرے مدرسے کے بچوں کو ان کے والدین نے یہاں علم سیکھنے کے لیے بھیجا ہے ,یہ تمھارے غلام نھیں ,خود ایک سورت پڑھ نھیں سکتے ان سے پڑھواتے ہو احسان کر کے ,نہیں ضرورت تمہارے چندوں کی !

کہتے ہیں ,اس کے بعد اللہ نے ایسا رزق کشادہ کیا کہ کئی برس کسی امداد کی نوبت ہی نہ آئی ..

یہ ٹھیک ہے اب مدارس میں جو طلبہ پڑہنے آتے ہیں ان میں بیشتر آسودہ حال گھرانوں سے ہیں ,لیکن ان مدارس کی اصل رونق وہ مسکین اور نادار طالب علم ہیں جو اپنے گاؤں سے ایک لوہے کی صندوکچی لے کر ,کینٹ اسٹیشن پہنچتے ہیں ,وہاں سے اسے بس میں چڑھا کر یا سر پر رکھ کر مدرسے کے احاطے میں داخل ہوتے ہیں .اس صندوق کی کل متاع ایک بستر ,ایک تکیہ اور ضرورت کے چند اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے .

چند جوڑے کپڑوں کے اور کچھ ٹوپیاں ,

نوجوان ,جن کے سامنے امکانات کی دنیا کھلی ہوتی ہے ,وہ سب چیزوں سے بے نیاز 

ایسے تیقن اور اعتماد سے آرہے ہوتے ہیں. گویا خدا ان کے ناموں کی منادی کر رہا ہے اور اس آواز نے انہیں دنیا و مافیھا سے غافل کر دیا ہے.

ان میں سے بعض طلبہ کے ساتھ رہنے کا اتفاق رہا ,

میں ایمان سے کہتا ہوں ان کا مہینے کا خرچ شاید 500 روپے سے بھی کم ہو ,لیکن کبھی یہ نہیں سنا کہ ہائے میرے پاس کچھ نہیں ,میرے والدین نے میرے لیے کچھ نھیں کیا .اللہ نے مجھ پر زیادتی کی ہوئی ہے .کبھی کسی مالدار کو حسرت بھری نگاہوں سے تکتے نہیں دیکھا 

اپنے حال میں خوش ,اتنے مطمئن اور اتنے آمادہ کہ 

پیشانی شکر گزاری کے اثار بتا دیں .

یہ کام ارباب حل و عقد کا تھا کہ دینی علم کے اختصاص کا بھی ویسے ہی احتمام کریں لیکن اس تغافل نے مدارس کو ایک عظیم نعمت سے نواز دیا ہے 

اور وہ ہے .

محرومی کی نعمت !

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ مدارس قومی دہارے سے باہر ہیں ۔

یہ شاید اس لیے کہا جاتا ہے کہ قوم جن چیزوں سے اپنی شناخت ظاہر کرتی ہے وہ ان میں نظر نہیں آتی ،کیا ایسا ہی ہے ،کیا وہ بھی جھنڈے لگاتے ہیں ،قومی دن مناتے ہیں ،قومی فتح پر خوش ہوتے ہیں؟

میرے خیال قومی وابستگی کا تعلق جذبے سے ہوتا ہے اظہار سے نہیں ،اظہارکے اسالیب اپنے ماحول کی رعایت سے بدلتے رہتے ہیں،

مدارس اپنی وابستگی کو ایک دوسرے انداز میں ظاہر کرتے ہیں ا ن کے نزدیک قومی وابستگی ہر چیز پر مقدم ہویہ تعصب ہے ،وہ سمھجتے ہیں یہ تقدیم مذہب کو ملنی چاہیے ,اگرچہ حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ کسی سے لینے کی ضرورت نہیں ,البتہ شناخت اہم ہے ،وہ خود کو سچا پاکستانی سمھجتے ہیں ,ایک پہلو سے اس بات کی سب سے روشن دلیل ان مدارس کے نونہالوں کی “پاکستانی کرکٹ میں دلچسپی ہے “

اس دلچسپی کا احوال ملاحظہ ہو

کلاس میں سبق جاری تھا اور میدان میں میچ ،طالب علم سر پر رومال لیے چپکے سے ہنڈ فری لگا کر ریڈیو پر میچ سن رہا تھا ،

استاد صاحب کوئی بات کرنے لگے کہ زورسے کلاس میں ایک آواز آئی

آؤٹ ہے !!!!!!!!!!!!!

اور یہ کہتے ہوئے خوشی سے دونوں ہاتھ اور انپائر کی انگلی فضا میں بلند تھے

سب لوگ اسے دیکھنے لگے ،اس نے ایسی معصومیت سے تعجب زائل کیا اور سر جھکا لیا،کچھ توقف ہوا , استاد حیران ہوئے کہ اچانک کیا ہوا، سبق پھر سے جاری کر دیا ۔ساتھ والے طالب علم نے سرگوشی سے پوچھا کون آؤٹ ہوا؟خبر وہاں چلی اور یوں ایک سے دوسرے ہوتے ہوتے کمنٹری پوری کلاس میں پھیلتی گئی ۔

دنیامیں قوموں کی تقسیم ایک ندرت،تنوع اور رنگارنگی پیداکرتی ہے لیکن 

ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ،اور وہ ہے لسانی تعصب ،ہمارے صوبے ایک دوسرے پر اس تعصب کا الزام لگاتے ہیں ،اداروں میں یہ افتراق موجود ہے ،ہر سطح پر مخلتف قومیتوں کے مابین خاموش نفرتیں قائم ہیں ،اور یہ معاملہ تعلیمی اداروں تک پہنچ چکا ہے وہاں تک لسانی بنیادوں پر تنظیمیں قائم ہیں 

لیکن مدارس میں مجھے اس کا شائبہ تک نہ ہوا ،لسانی تعصب کی بو تک وہاں محسوس نہیں ہوتی ،سندھی پنجابی ،بلوچی ،پختوں سرائیکی ،مہاجر ،گلگتی سب ایسے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے جیسے ایک ہی قوم کے ہیں ۔

جب انسان کے سامنے اس کا آدرش اور نصب العین واضح ہو تو وہ ان جھمیلوں میں مبتلا نہیں ہوتا ۔

شاید یہی نصب العین اور آدرش ہوتے ہیں جو یہ طالب علم کراچی میں رہتے ہوئے بھی ساحل دیکھنے سے محروم رے جاتے ہیں ۔

یہی آدرش اور نصب العین ہوتا ہے جو انہیں کدو کھاتے مرغ کا ذائقہ دیتا تھا ،اور ایسا نہیں کہ طالب علم کدو کھائیں اور استاد مرغ ،یہ افسانہ لطیفوں میں سننے کو ملتے ہیں پر حقیقت اس کے بالکل خلاف ہے ۔

یہ مساوات صرف لذت کام و دہن یا خرو نوش تک محدود نہیں ،بلکہ ہر سطح پر نظر آتا ہے ،

میں اگرچہ اپنے پس منظر کے اعتبار سے ایک مذہبی خانوادے سے تعلق رکھتا تھا اور میرے بزرگوں سے انہیں عقیدت تھی لیکن عبارت کی ایک غلطی پر کلاس کی ڈشنریاں اٹھا کر کھڑا ہونے میں اوروں کی طرح میرے لیے بھی کوئی رعایت نہ تھی یہی عالم بڑے آسودہ حال طلبا کا تھا.اس سے ایک ایسا ماحول جنم لیتا جہاں طالب علم آپس میں کسی احساس کمتری کا شکار نہ ہوتے .

یہی استاد اور طالب علم شام کو ایک میدان میں کھیل بھی رہے ہوتے ہیں ,

بلکہ بعض مدارس میں تو بوڑھے شیخ الحدیث صاحب کو بھی لائن میں پلیٹ لیے کھڑا دیکھا گیا جو اپنے طالب علموں کے ساتھ بیٹھ کر وہیں دال کھانے میں عزت محسوس کرتے ہیں ،

زندگی بھر کی خدمات دینے کے باجود ان میں یہ ٹینشن نہیں دیکھی کہ اب ریٹائر ہو جائینگے ،پینشن ملے گی یا نہیں ،میری پوری زندگی کی محنت کی کیا قیمت وصول ہوئی.

ان کی یہ سب محنت کسی منفعت کے حصول کے لیے نھیں بلکہ معاشرے اور خدا کے لیے تھیں جس کا اجر انہیں دنیا سے درکار بھی نہیں ! 

لیکن 

کیا انسان اپنی ذات کو ان اندیشوں سے بے نیاز کر سکتا ہے؟ 

برکلے کہتا ہے ہاں !

انسان کو چیزیں ویسی نظر آتی ہیں جیسی وہ انہیں دیکھنا چاہے ۔انسانی نفسیات اگر خود کو باور کرادے تو گرم انگارے اور تیز کانتے بھی پھولوں کی سیج معلوم ہوتی ہے جہاں خواب فرشیں کے لذت کروٹ بدل رہے ہوں

دینی مدارس کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر دیکھنا چاہیے ،وہاں انسان بستے ہیں اسی معاشرے کے انسان ہیں ۔

جب ہم فوج پر تنقید کرتے ہیں تو اس سے مخاطب سرحد پر بیٹھے وہ بہادر جری سپاہی نہیں ہوتے بلکہ حکومتوں پر شب خون مارنے والے جنریلوں کا نظریہ ہوتا ہے ،

بالکل ایسے ہی کسی دینی فکر پر تنقید کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان طلب علموں یا وہاں قربانی دے کر پڑہانے والے اساتذہ کو ہدف تنقید بنائیں 

ان مدارس کا جذبہ محمود ہے ،مقصد مبارک ہے 

وہ جسے حق سمھجتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں ،

وہاں کی ایک تہذیب ہے اک روز مرا ہے،اس کی انفرادیت سماج کو خوبصورت بناتی ہے۔انسانی جبلتیں ان میں بھی پائی جاتی ہیں ،وہ بھی دکھی ہوتے ہیں ،حالات کا اثر ان پر بھی ہوتا ہے،ان کا بھی ناحق خون بہتا ہے ،وہ بھی مہنگائی سے متاثر ہوتے ہیں ،انہیں بھی بجلی نہیں پہنچ پاتی ۔اور وہ بھی کبھی کبھی مسکراتے ہیں ،

سماجی سطح پر ہم انہیں یہ باور کرائیں کہ آپ قوم کی فکری تربیت کی بڑی ذمہ داری پر مامور ہیں ،ہم اس ذمہ داری کی نوعیت پر انہیں توجہ بھی دلائیں لیکن ایسےہی محبت اور خیر خواہی سے جیسے اپنے محسن اپنے بچوں کو دلاتے ہیں ۔

ان مدارس کو بھی یہ سوچنا چاہیے ،ہم نے ان کے ماحول میں وقت گزارا ہے ،ہم ان کی قربانیوں جذبوں اور سرگرمیوں سے واقف ہیں ۔ہمارے کسی علمی یا فکری اختلاف کی وجہ سے آپ ہمیں کچھ بھی کہیں ،ہم آپ کی خدمات کی تحسین آپ محنت کی قدر ہمیشہ کرتے رہینگے ۔

ہم آپ سے بعض علمی معاملات میں اختلاف رکھتے ہیں, لیکن آپ کے حق ِاختلاف کے لیے جان بھی دے سکتے ہیں 

مسلمان کبھی جزیرہ نہیں بناتا ،ہم آپ سے ہیں آپ ہم سے ،ایک خدا ایک رسول کو ماننے والے ۔قوم ہم سے خدا کی بات سننا چاہتی ہے،ہمیں بلند اخلاق پر دیکھنا چاہتی ہے،ہمارے رویئے انہیں دین کے قریب لانے کا باعث بنتے ہیں 

آئیں گلے ملیں ،چائے پئیں ،تبادلہ خیالات کریں 

دنیا میں مجسم شر کوئی نہیں

آئیں اس بات پر اتفاق کرلیں کہ 

عزت سے بات سنیگے 

اور شایستگی سےاختلاف کرینگے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں