نیویارک میں مذہبی اعزازات کو قانونی حیثیت مل گئی

نیویارک میں مذہبی اعزازات کو قانونی حیثیت مل گئی
رپورٹ:سلمان ربّانی

نیویارک اسٹیٹ میں حافظ قاری مولانا مفتی پیر امام جیسے اسلامی اعزازی القابات کو قانونی حیثیت دے دی گئی امریکی ریاست نیویارک کے اسٹیٹ ریلیجز کارپوریشن لاء میں سرکاری سطح پر مذہب اسلام کو شامل کرلیا گیا،جس کے بعد مذہب اسلام کے علماء و صلحاء کے اعزازی عنوانات مولانا مفتی قاری پیر و امام کو قانونی حیثیت حاصل رہے گی اور مساجد و مدارس اور اسلامک آرگنائزیشنز کو دیگر بہت سی مراعات حاصل ہو جائيں گی ! حیران کن بات یہ ہے کہ نیویارک اسٹیٹ ریلیجز کارپوریشن لاء سے سرکاری سطح پر ملحق 20 کے قریب مذاہب میں مذہب اسلام داخل ہی نہیں تها.امریکہ میں مقیم معروف عالم دین مفتی منیر احمد اخون ايك عرصے سے اس کی جدوجہد میں مصروف تهے جس کے باعث الحمد لله مذہب اسلام کو سرکاری سطح پر نیویارک اسٹیٹ ریلیجز کارپوریشن لاء میں شامل کرنے کے لئے9 جنوری 2013 کو سینٹ میں بل پیش کیا گیا جس کے بعد 11جون 2013 کو بهاری اکثریت سے منظور کرکے اسمبلی کے حوالے کردیا گیا اور اس طرح یہ سال بهر اسی طرح لٹکا رہا اور بالاخر 7 مئی 2014 کوسینٹ سے ایک بارپهر منظور ہوکر اسمبلی کے حوالے کردیا گیا مگر پهر بهی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پایا،نیویارک مسلم کمیونٹی میں شدید تشویش پائے جانے کے سبب ایک بار پهر امریکہ کے معروف عالم دین و روحانی اسکالر مفتی منیر احمد اخون نے بهرپور جدوجہد شروع کی جس کا بالآخر نتیجہ یہ نکلا کہ بل سینٹ میں پاس کرلیاگیاجسکی خوشخبری گذشتہ روز 23 جولائ 2015 نیویارک اسٹیٹ کے سینیٹر ٹونی اویلا نے مفتی منیر احمد اخون کے ہمراہ پریس کانفرنس کرکے باقاعدہ اس بل کی منظوری کا اعلان سرکاری سطح پر کر دیاجس کے مطابق اب نیویارک اسٹیٹ میں علماء وصلحاء کے اعزازی عنوانات حافظ،قاری،مفتی،مولانا،پیر و امام کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی. اس اعلان کے بعد سے نیویارک مسلم کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی.اس موقع مفتی منیر اخون نے سینیٹر کے اعلان کا شکریہ ادا کیا اور نیویارک مسلم کمیونٹی سے خراج تحسین وصول کیا.

11731566_10205751752966967_8008843867625340764_o11728828_10205751754327001_6123022960816445607_o11792120_10205751755087020_8119911949479172606_o

اپنا تبصرہ بھیجیں