تم اچهے بهلے انسان تهے مگر جانے کیا ہوا کہ مسلمان ہوگئے

فرنود عالم

جندید جمشید پھر زیربحث ہے۔ پرانی تحریر یاد آئی۔ آپ کی سوچ کی نذر کرتا ہوں
میرے دوست جنید جمشید..!!!
تم اچهے بهلے انسان تهے مگر جانے کیا ہوا کہ مسلمان ہوگئے.
سوچو وہ وقت کہ جب تم ایک انسان کی حیثیت سے اس معاشرے میں جی رہے تهے. سب تمہاری عزت کرتے تهے. کسی شاپنگ مال سے تم گزرتے تو ہاتھ ملانے کو لوگ مرے جاتے تهے. جس مارکیٹ میں جاتے سب عزت سے کهڑے ہوجاتے. کسی شاہراہ پر سے گزرتے تو گاڑیوں میں سے لوگ تمہیں فلائنگ سلام کرتے. ہر مدرسے کی اونچی فصیلیں تمہیں مرحبا کہتیں. تم گهر پہنچتے تو گفٹ کے انبار ہوتے. خطوط کے سلسلے ہوتے. خواہشیں ہوتیں فرمائشیں ہوتیں. ملاقات کی درخواستیں ہوتیں. دیوبندی نے کبهی کافر نہیں کہا. شیعہ نے کبهی گمراہ نہیں کہا. اہل حدیث نے کبهی مشرک نہیں کہا. بریلوی نے کبهی گستاخ نہیں کہا.تم کسی بهی مسجد میں جا سکتے تهے. بلاتمیز رنگ ونسل لوگ تمہارے کنسرٹ میں آتے. آنے سے پہلے مسلک چیک نہیں کرتے تهے. ایمان نہیں تولتے تهے. کیونکہ تم ایک انسان تهے.
کیا اچها وقت تها نا کہ تم ٹوپی کے بوجھ سے آزاد تهے. جب تهی ہی نہیں تو رنگ کون چیک کرتا.
تمہارا سر عمامے کی قید سے آزاد تها. جب تها ہی نہیں تو دستارکے یر پیج کی تحقیق کون کرتا.
جب تمہارے چہرے پہ داڑهی نہیں تهی. جب تهی ہی نہیں تو کون چیک کرتا کہ اہل حدیث کی طرح ایکسٹرا لارج سائز ہے دیوبندی کی طرح میڈیم سائز ہے بریلویوں کی طرح مہندی مارکہ ہے شیعوں کی طرح منی پیک ہے یا پهر مودودیوں کی طرح سمال سائز ہے… کیوں؟ کیونکہ تم انسان تهے.
تم انسان تهے تو کسی کو تمہاری نماز سے سروکار نہیں تها. کوئی نہیں دیکهتا تها کہ تم نیت سینے پہ باندهتے ہو ناف پہ باندهتے ہو زیرناف باندهتے ہو یا پهر سرے سے باندهتے ہی نہیں ہو..
تم جس مسجد میں چاہتے چندہ دے سکتے تهے. کیونکہ تمہارے پیسے نہ شیعہ تهے نہ سنی. تم کسی بهی مسجد میں جا سکتے تهے. کیونکہ تمہارے سجدوں پہ کسی پوپ کے کاپی رائٹس نہیں تهے. تمہاری گاڑی میں کوئی بهی بیٹھ جاتاتها کیونکہ تمہاری گاڑی کا کوئی مسلک نہیں تها. تمہارے ساتھ کوئی بهی کهانا کهالیتا کیونکہ تمہاری ڈائننگ ٹیبل ڈنرسیٹ فریش جوسز سلاد رائتہ باربی بی کیو بریانی اور نہاری وغیرہ کا کوئی فرقہ نہیں تها. تمہیں کوئی بهی گلے لگا لیتا تها کیونکہ تم ابهی انسان تهے..!!
کیوں؟ آخرایسا کیوں تها؟ کیونکہ تم محبت کے گیت گاتے تهے. تم پیارکے راگ بکهیرتے تهے. تم الفت کے سرتال فیل اٹهاتے تهے. تم شب وصل کے عشوے اور شب ہجرکے غمزے سناتے تهے. تم درد اور کرب کی دهنوں پہ احساس کی لے اٹهاتے تهے. تم تو دلوں کے سوز کو اپنے ساز سے ہم آہنگ کرکے انسانیت کو جذبات کے ایک ہی رنگ میں رنگ دیتے. وہ انسانیت جو دنیاکا سب سے بڑا مذهب ہے. وہ مذهب جس کے تم ایک لازوال پیشوا تهے..
اب محبت اور پیارکا کوئی مسلک تو نہیں ہوتا نا صاحب. شب وصل اور شب فراق کی لہریں بھی کسی فرقے سے نہیں اٹهتیں. درد اور کرب کے جملہ حقوق کسی مسلک کے نام تو محفوظ نہیں ہوتے. سو تم قبول ہوئے اور انسانیت نے تمہاری بلائیں لیں.. مگر..!
مگرتمہیں ایک زاہد کی نظرلگ گئی. تم “مسلمان” ہوگئے. شب زندہ دار ہوگئے. انسان تم سے دور ہوگئے. مسلمان قریب آگئے. یہ مسلمان تهے ہی کتنے. کل آبادی کا یہی کوئی بیس پچیس فیصد؟ سو زمین نے پاوں سمیٹ لیئے. انسانوں نے ہاته اٹهالیئے. فیتے لیکر لوگ تمہاری داڑهی ناپنے لگے. مائکرو اسکوپ لیکر تمہارے عمامے کا رنگ جانچنے لگے. پیمانے اٹهاکر تمہارا ایمان تولنے لگے. پتہ ہے پھر کیا ہوا؟ تمہارے پیسے گمراہ ہوگئے. تمہاری گاڑی کافر ہوگئی. تمہارے ٹماٹر پیاز اور انڈے ڈبل روٹی فاسق ہوگئے. تم سے جو آٹو گراف لیئے گئے تهے وہ مشرک ہوگئے. تمہیں جو گفٹ دیئے گئے اس کا خلوص مرتد ہوگیا. تم سے رشتے ناتے آسمانی احکامات کے مطابق ناجائز ہوگئے.. بالآخر عصبیت نے تمہارا گهیراو کرلیا. پهر یوں ہوا کہ تم توہین رسالت کے شکنجے میں کس لیئے گئے. پھر تمہاری سزا یہ طے ہوئی کہ تمہارا سر تن سے جدا کردیا جائے…!!
تم اب سوچتے ہوگے کہ یہ فرقہ ورانہ تعصب کسے کہتے ہیں. اس کی نفسیات کیا ہوتی ہیں..؟
اے میرے ہمدم دیرینہ.!! اس سے بہتر کوئی مو قع نہیں ہوگا کہ میں تمہیں سمجها سکوں. حالات کی بے رحمی نے اب جو تمہیں تنہائیاں عطا کی ہیں ، انہی ڈستی تنہائیوں میں تم میری ایک بات پہ غور کرنا. دیکهو تمہیں یاد ہے نا کہ ایک وقت ایسا تها کہ تم پنج وقتہ نمازی نہیں تهے. تم ایک پاپ سنگرتهے. ایک گٹارسٹ تهے. مسجد اکثر نہیں جاتے تهے. تب تمہارا اسٹیٹس کیاتها؟ تب تم صرف ایک گناہ گار تهے. ہاں بس ایک گناہ گار. یعنی نماز نہ پڑهکر بهی تم ایک مسلمان ضرورتهے. مگر ایک وقت آیا کہ تم نے خدا کے پڑوس میں اپنا گهر تعمیر کرنا شروع کردیا. جانتے ہو نا پهرتمہارا اسٹیٹس کیابنا؟
پهر تم کافر ہوگئے..!!
نہیں سمجهے..؟؟
تم گہرائی سے اور دل سے اس بات پہ سوچو کہ نماز نہ پڑھ کر تم چاروں مسلکوں کے مطابق مسلمان کیسے تھے۔ پھر نماز پڑھ کر تم تین مسلکوں کے مطابق کافر کیسے ہوگئے۔؟ اور صرف ایک مسلک کے مطابق مسلمان۔؟ عجیب سا نہیں لگتا تمہیں۔؟
خیر۔۔!!!!
جنید میں تم سے ایک دو باتیں اور کرنا چاہتاہوں. مگر تهوڑا سا مجهے وقت دو. کچھ دیر میں ملتے ہیں. اتنی دیر میں تمہارا ایک گانا سنتے ہیں
“یہ شام پهر نہیں آئے گی
اس شام کو
اس ساتھ کو
آو امر کرلیں”
نوٹ: متن کا تعلق جے جے کے حالیہ تنا زعے سے ہر گز نہیں ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں