مولانا طارق جمیل اور عمران خان ملاقات کی اندرونی کہانی

مولانا طارق جمیل اور عمران خان ملاقات کی اندرونی کہانی

گفتگو و تحریر: نعمان لیاقت                         ترجمہ وترتیب: سلمان ربانی

نعمان لیاقت ایک قابل بلاگر ہیں، اور مسلم یوتھ کے نام سے ویب سائٹس بھی چلا رہے ہیں، مولانا طارق جمیل کی عمران خان کی دعوت افطار میں شرکت کے بعد سے اس ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلا کر جو طوفان بدتمیزی کھڑا گیا اس کی مثال نہیں ملتی، لہذا اس صورتحال کے پیش نظر مولانا طارق جمیل سے اس ملاقات کے احوال لے کر ان کی مشاورت سے یہ تحریر تیار کی گئی ، جو کہ انگلش زبان میں تھی، قارئین لے لئے اردو میں یہ تحریر پیش کی جارہی ہے

اسلام آباد/ 6 جولائی بروز پیر معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کراچی سے اسلام آباد پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی خصوصی دعوت افطار میں شرکت کے لئے ان کے گھر بنی گالا پہنچے، ملاقات کی دلچسپ بات یہ تھی کی پہلی بار دونوں شخصیات اپنی بیگمات کے ہمراہ تھے،یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ ایک غیررسمی ملاقات تھی، اس ملاقات کا نہ تو کوئی سیاسی ایجنڈ ا تھا اور نہ ہی کوئی مذہبی،کیونکہ دونوں شخصیات باہمی تعلق کی بنا پر ایک دوسرے کا ادب واحترام کرتے ہیں۔
درحقیقت اس ملاقات میں کیا ہوا تھا؟
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ یہ ایک غیر رسمی ملاقات تھی، مولانا طارق جمیل اپنی زوجہ اور بیٹے کے ہمرا تھے جبکہ دوسری جانب مہمانوں کو خوش آمدید کے لئے عمران خان اپنی زوجہ کے ہمراہ تھے،دونوں فیملیاں کی خوشگوار ماحول میں گفتگو جاری تھی، اس موقع پر مولانا طارق جمیل نے عمران خان اور ان کی زوجہ کو اس سال حج کی دعوت دی، جو الحمدللہ بخوشی عمران خان اور ان کی زوجہ نےدعوت قبول بھی کی جبکہ اس سال حج کی ادائیگی کے لئے مولانا طارق جمیل کے ہمرا جانے کاتہیہ بھی کیا۔ جب مولانا طارق جمیل سے پوچھا گیا کہ جیسا کہ میڈیا پر خبر چلی تھی کہ : مولانا طارق جمیل نے عمران خان سے پاکستان سے سود کے خاتمے کی بات کی تو اس پر مولانا نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں یہ سب جھوٹی خبر ہے،کیونکہ یہ دو فیملیوں کی ایک غیر رسمی ملاقات تھی، عمدہ بات یہ تھی کہ افطاری کے بعد عمران خان نے مولانا طارق جمیل کی امامت میں نماز مغرب کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی ،عمران خان مولانا طارق جمیل صاحب کا حد درجہ احترام رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ مولانا سے باہمی تعلق کی بنا پر مختلف مشکل مسائل میں مولانا سے راہنمائی بھی لیتے رہتے ہیں۔

:یہ ایک خوشگوار ملاقات تھی ، مگر جوں ہی سوشل میڈیا پر اس ملاقات کی تصویریں آنا شروع ہوئی تو کچھ فیس بک کے نام نہاد مفتیوں کی جانب سےمولانا کی ذاتیات پر حملے شروع کردئیے ، جو کہ کچھ اس طرح تھے

عمران خان ایک یہودی ایجنٹ ہے، مولانا طارق جمیل نے بہت بڑی غلطی کی ان کے گھر جاکر،جو کہ مولانا کی منفی تصویر ابھرے گی (اس پر مولانا طارق جمیل نے کہا کہ : عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ میںہے، کسی انسان کو اختیار نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کی عزت و ذلت کا فیصلہ کرے
:اسی طرح ایک تصویر جو سوشل میڈیا اور بلاگ پر اپلوڈ کی گئی ، جس میں کچھ اس طرح تحریر تھا

10986992_872460299512255_1096623441661784372_nhat jawoo

اسی طرح ذیل میں دی گئی تصویر کو پھیلا کر غلط فہمیاں پیدا کی گئی، جس میں مولانا طارق جمیل کو ایک خاتون سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا گیا، ناقدین نے اس تصویر کے بارے میں کہا کہ یہ خاتون جس سے مولانا گفتگو کررہے ہیں یہ مولانا کی زوجہ ہیںجس پر نہایت گھٹیا تبصرے کئے گئے اور کہا کہ “”مولان ہر کسی کو پردہ کی تلقین کرتے ہیں اور ان کی خود کی بیوی پے پردہ بیٹھی ہیں”””””
جبکہ اس تصویر کی حقیقت یہ ہے کہ یہ مولانا کی بیوی نہیں بلکہ عمران خان کی بیوی ریحام خان کی دوست ہے، مولانا کی بیوی ریحام خان کے برابر میں مکمل پردے میں تھی، جوکہ اگلی تصویر میں زرد دائرے میں واضح ہے

11705064_1150986864930745_8837207738472262061_n

اسی طرح اس تصویر سے متعلق ایک اور اعتراض جو کیا گیا وہ یہ کہ مولانا طارق جمیل ایک نا محرم خاتون سے بات کررہے ہیں، اور مولانا اس نا محرم خاتون کی جانب کیوں دیکھ رہےہیں۔ اسلام کیا کہتا ہے اس سے متعلق؟ کیا یہ اسلام میں اس کی اجازت ہے؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قارئین کرام اس تصویر میں مولانا جس خاتون (ریحام خان کی دوست ) سے گفتگو کررہے ہیں وہ مولانا کی بیٹی کی عمر کی ہے اور وہ خاتون مولانا سے اپنے والد کے طور پر گفتگو کررہی ہےجو کہ کسی مسئلے کے متعلق سوال کررہی ہے۔ یہاں سوال پید ا یہ ہوتا ہے کہ کیا ہم اس طرح کے اعتراضات کرنے کا حق رکھتے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس اس طرح کے کچھ واقعات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ملتے ہیں کہ :
نبی اکرم ﷺ کے پاس مردوں کو برا بھلا کہنے والی ایک فاحشہ عورت آئی آپ ﷺ اس وقت کھانا تناول فرمارہے تھے اس عورت نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی کیا آپ مجھے کھانا نہیں کہلائیں گے آپ ﷺ نے عرض کیا کیوں نہیں اور اپنے ہاتھ سے ایک لقمہ نکال کر اس فاحشہ عورت کے منہ میں ڈالا اس لقمہ کی برکت یہ ہوئی کہ پھر اس فاحشہ عورت کے منہ سے کسی نے کوئی غلط بات ساری زندگی نہ سنی۔(حدیث نمبر 7826المعجم الکبیر للطبرانی 187 باب الصاد 187
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم کسی حال میں بھی خوش نہیں، مجھے اکثر حیرانگی ہوتی ہے کہ ہم کس طرح کے انسان ہیں، ہم ہمیشہ ہر مسئلے میں منفی رویہ اختیار کرتے ہیں۔ جب مولانا طارق جمیل نے کرکٹ کھلاڑیوں کے درمیان دعوت کا کام شروع کیا تو ہم نے اعتراض کیا کہ مولانا کے کھلاڑیوں کے درمیان دعوت کے کام سے ان کا کھیل متاثر ہوگا، اسی طرح جب مولانا طارق جمیل نے سابق اسٹیج اداکارہ نرگس سے ملاقات کی تو یہ واقعہ ہم پر زلزلہ بن کر گرا، جس پر لوگوں نے طرح طرح کی باتیں بھی کی اور مولانا کو نرگس سے ملنے پر منع بھی کیاناقدین کی رائے کے مطابق ایسی بیہودہ عورت دین کی مستحق نہیں،تمام پریشر کو بالائے طارق رکھ کر نہ صرف اس سے ملاقات کی بلکہ اسے بیٹی کا درجہ بھی دیا۔(اپنے آپ سے سوال کریں کہ ہم سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو اس طرح کریں)، اور پھر کیا ہوا نرگس نے اللہ کے لئے سب چھوڑ دیا، اب اگر مولانا لوگوں کے اعتراضات کی وجہ سے اسے چھوڑ دیتے تو آج کہانی کچھ اور ہوتی اور نرگس آج بھی اسٹیج پر ہوتی،اور تیسری مثال سابق ٹی وی فنکارہ وینا ملک کی ہے،یہ مولانا طارق جمیل ہی تھے جنہوں نے وینا کو اپنی بیٹی کہاجبکہ اس کے والدین بھی اسے چھوڑ چکے تھے ،مگر مولانا اس کے گھر گئے اور اسے عزت دی، نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے،آج وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش خرم زندگی بسر کررہی ہے۔میرے خیال میں مولانا طارق جمیل کا ایک عظیم انسان ہونے کے لئے یہ چند مثالیں کافی ہیںکہ جو اللہ کی رضا کے لئے اپنی عزت کی پرواہ کیے بغیر ان گناہگاروں سے ملتے ہیںوہ بھی بغیر کسی ذاتی مفاد کے لئے۔
جب یہ جعلی ایڈیٹ شدہ تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تو مولانا کے چاہنے والے اور مولانا کے بیانات سننے والے بھی کچھ الجھن کا شکار ہوگئےکیونکہ وہ مولانا کی ذاتی زندگی کے متعلق نہیں جانتے تھے،لہذا یہ وضاحتی مضمون مولانا طارق جمیل کی مشاورت سے ان کے چاہنے والوں کے لئے تحریر کیا گیا۔
جب یہ تصاویر مولانا طارق جمیل نے خود دیکھیں تو وہ بہت غمزدہ ہوئےکہ لوگوں کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی شخصیات نے بھی ان کی ذاتیات پر حملے کرنا شروع کردئیے۔ میرے دوستوں خدا کے واسطے سوشل میڈیا پر دیکھی جانے والی ہر چیز پر اندھا اعتماد نہ کرو، پہلے تحقیق کرو ، مستند ذرائع سے معلومات کرو پھر رائے زنی کرو، آپ کا ایک لفظ کسی کو توڑ سکتا ہے،کسی کے جذبات مجروح کرسکتا ہے اور پھر کسی معتمد عظیم انسان کے متعلق۔
آخر میں سب سے حیرت انگیز بات یہ کہ جب مولانا سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا تو مولانا نے جواب دیا کہ یہ لوگ حقیقت سے نا آشنا ہیں، یہ معصوم ہیں، میں اللہ کے لئے ان سب کو اللہ کے لئے معاف کرتا ہوں، یہ سب میرے بھائی ہیںاور میں ان سب کی عزت کرتاہوں، مولانا کے یہ جادوئی الفاظ سن کر میں ہکابکا رہ گیا۔
آخر میں ، میں سب سے درخواست کرتا ہوںکہ ہمیںاس طرح کے تنازعات سے بچنا چاہئے اور مثبت رویہ اختیار کرنا چاہئے،مجھے ان لوگوں سے کوئی شکایات نہیں جنہوںنے یہ تصاویر اپلوڈ کی بلکہ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ہمارے اور ان سب کے دلوں کو ایمان سے بھر دےتاکہ ہم ایک دوسرے سے محبت کرسکیں اور احترام کرسکیں، اختلاف رائے امت کے لئے رحمت ہے لیکن بشرطیکہ وہ اخلاقی حدود کے دائرے میں ہو۔
لہذا لوگوں کے اشکالات دور کرنے کے لئے مولانا طارق جمیل کی اس ملاقات کی مثبت تصاویر شئیر کی جائیں۔

11201898_1050137018364226_4716126584796926569_n namz

اپنا تبصرہ بھیجیں