مولانا طارق جمیل بمقابلہ ناقدین وقت

اس میں کوئی شک نہں کہ مولانا طارق جمیل ایک پراسرار شخصیت کے حامل ہیں، ان قریب جانے والا ہر شخص ان کا گرویدہ ہوجاتا ہےچاہے وہ کسی بھی مسلک یا مذہب سے تعلق رکھتا ہے،مولانا کا یہی حسن اخلاق ہے کہ جس کی بنا ان کے بڑے بڑے مخالفین بعد میں ان کے سحر کا شکار ہوئے، ایسا ہی کچھ عمران خان کے ساتھ بھی ہوا،اگر کوئی یہ کہے کے عمران خان کا مولانا سے تعلق کسی خاص مقصد یا مفاد کے تحت ہے تو یہ بالکل غلط ہوگا، کیونکہ عمران خان صاحب بھی مولانا کے سحر کا شکار ہوچکے ہیں،یہ بات شاید بہت کم لوگوں کے علم میں ہو کہ عمران خان کا مولانا سے تعلق تصاویر کے حساب سے کوئی ایک دو ملاقات کا نہیں، بلکہ عمران خان وقتا فوقتا بہت سے مسائل میں صلح ومشورے کے لئے مولانا سے رابطے میں رہتے ہیں،یہ تو کوئی ایک دو ملاقات دعوت کی صورت میں سامنے آتی ہے تو بھولے بھٹکے ناقدین اپنی دکان کھول کر بیٹھ جاتے ہیں، ایسا ہی کچھ ابھی پچھلے دنوں ہوا کہ مولانا عمران خان کی دعوت افطار پر ان کے گھر بنی گالہ اپنی زوجہ کے ساتھ چلے گئے اور پھرجب تصاویر سوشل میڈیا پر آنا شروع کیا ہوئی کہ امت کا اندر کا اسلام بھرپور جاگ گیا،لادین ،بے دین، ملحد،مشرک نے تو اعتراضات و مخالفت کی دکان کھولی ہی کھولی مگر حیرانگی اس بات پر ہے کہ مذہبی سیاسی جماعت کے سرکردہ راہنماؤں نے بھی بڑھچڑھ کر حصہ لیا،سوشل میڈیا پر جب مولانا کے خلاف مذہبی جماعتوں کے سرکردہ کارکنوں کی پوسٹیں و تحریریں نظر سے گزری تو پہلے پہل تو میں سمجھا کہ جذباتی کارکنان ہے کم علمی و کم فہمی کی بنا پر ایسا کررہے ہیں، مگر اتفاق ایسا ہوا کے گزشتہ روز مذہبی سیاسی جماعت کے ایک اہم لیڈر مجھ سے اس بات پر بھڑ گئے کہ :
“عمران خان ایک یہودی ایجنٹ ہے اور مولانا طارق جمیل نے ایک یہودی ایجنٹ اور نا محرم عورت کے ساتھ ایک ٹیبل پر کھانا کھایاہے، لیذا آپ کو مولانا یا عمران کو Defendکرنے کی ضرورت نہں”
ایک بڑے ذمہ دار اہم لیڈر کے منہ سے ایسی بے تکی بات سن کر میں تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا، اور دل کیا کے موصوف کے قائد کی انگنت تصاویر کا ڈھیر ان کے سامنے رکھ کر یہی سوال ان سے کروں،مگر دوسرے ہی لمحے خیال آیا کہ اس طرح کیا تو پھر مولانا طارق جمیل کو ڈیفنڈ کرنے کا فائدہ ہی کیا ہوا، لہذا مولانا والا ہی فارمولا استعمال کرتے ہوئے یہ سوچ کر درگزر کردیا کہ بے چارہ کم علم اور کم فہم ہے، سیاسی اختلاف کی آڑ میں مولانا کی ذاتیات پر حملے کررہا ہے، کرنے دو! ایک دن خود ان کے سحر کا شکار ہوگا تو سوال کروں گا۔گزشتہ دن ہمارے معزز دوست نعمان لیاقت بھائی جب اسی حوالے سے مولانا طارق جمیل کی مشاورت سے ایک آرٹیکل تیار کررہے تھے تو انہوں نے مولانا سے سوال کیا کہ یہ جو عمران خان کی ملاقات کے بعد لوگوں نے بالخصوص مذہبی طبقوں سے بھی مخالفت کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس پر آپ کیا کہتے ہیں، مولانا نے فرمایا: ” یہ حقیقت سے ناآشنا معصوم لوگ ہیں،قابل عزت ہیں، میرے بھائی ہیں، ان کا کوئی قصور نہیں”
بہر کیف ہماری خواہش ہے مستقبل میں بھی مولانا طارق جمیل اور خان صاحب کا تعلق اسی طرح قائم ودائم رہےاور یہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے، اور مولانا سے بھی یہی امید ہے کہ وہ بھی ان کھوکھلے پروپیگنڈوں سے خوفزدہ نہیں ہونگے،اور ماضی کی طرح مولانا ثابت قدم رہیں گے کہ جب مولانا اسٹیج اداکارہ نرگس سے ملنے گئے تو اس وقت بھی ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کیا گیا بلکہ یہاں تک کے مولانا کو اپنے حلقوں کی جانب سے ہی ان سے ملنے سے منع کردیا گیا تھا، مگر مولانا نے اس وقت بھی کسی کی پرواہ کئے بغیر نا صرف نرگس سے ملاقات جاری رکھی بلکہ علی الاعلان اسے بیٹی کا درجہ بھی دے دیا، اور یہی کچھ وینا ملک کے ساتھ بھی ہوا کہ جب اسے اس کے اپنے والدین نے ہی بیٹی کہنے سے انکار کردیا تو مولانا نے اسے بیٹی کا درجہ دیااور عزت دی، جس کی مثال آج آپ کے سامنے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں