سوشل میڈیا کے ٹهگوں کی تباہ کاریاں

سوشل میڈیا پیجز اور بلاگز کا ایسا ٹرینڈ چل چکا ہے کہ اب کوئی بهی ادارہ پہلے پہلے فیسبک اور ٹوئیٹر پر انٹری مارتا پهر کہیں جا کر ویب پر توجہ دیتا ہے،بلکہ اب تو محسوس ہوتا ہے ویب کا زمانہ ہی گیا.
سوشل میڈیا پلیٹ فارم جس طرح دن دگنی رات چگنی ترقی کررہے ہیں اسی طرح یہ پلیٹ فارم روزگار کے بهی بہترین مواقع پیدا کررہے ہیں،جس میں بالخصوص گوگل ایڈسینس سب سے زیادہ معروف ہے جو کہ ماہانہ قریبا 50 ہزار تک آمدنی دیدیتا ہے،مگر اس کے لئے تهوڑی سی محنت کرنی ہوتی ہے،طریقہ کار بالکل آسان اور عام فہم ہے،پہلے آپ اپنا ایک پورٹل یا بلاگ بنائیں اور اس پر Contentاپلوڈ کرنا شروع کریں اور اس پورٹل یا بلاگ کے نام سے ہی فیس بک پیج اور ٹویٹر بهی بنائیں اور پهر ویب پر جو content اپلوڈ کریں تو ساته ہی ساته اس content کی پوسٹ بناکر فیسبک پیج اوت ٹویٹر پر بهی اپلوڈ کریں اور اس پوسٹ کو ویب سے لنک کرتے رہے،ویب کے content کو سوشل میڈیا پوسٹ سے لنک کرنے کامقصد ٹریفک جنریٹ کرنا ہوتا ہے تاکہ سوشل میڈیا سے ٹریفک زیادہ سے زیادہ آپ کی ویب پر آئے کیونکہ ویب پر گوگل ایڈسینس لگا ہوا ہے جو کہ آپ کو فی کلک یا ویو پر پیسے دے رہا ہوتا ہے.
یہ طریقہ کار کافی عرصے سے رائج ہے جس کئ طالب علم نوجوان گهر بیٹهے کمائی کررہے ہیں،مگر اب صورتحال کچه بدلنے لگی ہے،جب سے اس صاف ستهرے کام میں چور لٹیرے اور ٹهگ گهسنے لگے،جنہوں سوشل میڈیا کی شکل ہی بگاڑ دی،ان میں سرفہرست ZemTV اور siasat.pkہے، اس کے علاوہ اور بهی ہزاروں ٹهگ ہیں مگر یہ دو سرفہرست ہیں جو اس وقت لاکهوں روپے اپنے ٹهگ کی بدولت سمیٹ رہے، ان لوگوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ سوشل میڈیا پیجز پر جو پوسٹ لگاتے ہیں اس میں اتنا سنسنی ڈالتے ہیں کہ user مجبور ہوتا ہے اس پوسٹ پر کلک کرنے پر،سنسنی بهی مختلف قسم کی ہوتی ہے یا تو سیکس پر مبنی ہوگی یا پهر کسی مسلک یا فرقے کی منافرت سے بهرپور ہوگی اور اس پر تصاویر بهی ایسی چسپا کی گئی ہوں گی کہ یوزر کا دماغ اسے کلک کرنے پر مصر ہوگا یا پهر نیم برہنا تصویر لگا کر اس پر Video Play کا سمبل لگا ہوگا جس سے ایسے باور کرایا جائے گا کہ یہ ویڈیو ہے ،جب آپ اس طرح کے ٹهگ پوسٹوں پر کلک کریں تو وہ آپ کو redirect کردے گا سائٹ پر جس پر آپ بیتابی سے اس پوسٹ کے مکمل کهلنے کا انتظار کریں گے جیسے ہی فیس بک سے redirect ہونے کے بعد ویب پر پہنچیں گے تو یہاں کهلنے والا content اس پوسٹ کے برعکس ہوگا جس پوسٹ کو کلک کرکے آپ یہاں پہنچیں ہیں. مگر اب آپ کچه بهی کریں آپ کے اس ویب پر آتے ہی ان ٹهگوں کو آپ کے فقط اس پیج پر آمد سے پیسے مل چکے اور یہ ٹهگ سارا دن بیٹه کر لوگوں کو الو بنا بنا کر پیج پر لاتے ہیں اور کماتے ہیں،
اب جیسا کہ آج کل ایان ملک اور اسماعیلی بس کا ایشو ایسا ہاٹ ٹاپک ہے کہ ان ایشوز سے لاکهوں روپے بٹورے جارہے ہیں جیسا کہ ایان ملک کے چند پوسٹ کچه اس طرح تهے:
“ایان ملک نے جیل میں ایسی کیا حرکت کرڈالی کہ جس سے پولیس والے ہوگئے حیران…. تفصیل کے لئے لنک پر کلک کریں”
اور دوسرا ایشو کچه اس طرح:
” اسماعیلیوں کو قتل کرنے کی اصل وجوہات پتہ چل گئی… تفصیل کے لئے لنک”
اور پهر سوشل میڈیا پر بیٹهی ہوئی عوام ایسی پوسٹوں دهڑا دهڑ کلک کرنا شروع اور ادهر دهڑا دهڑ پیسوں کی مشین چلنا شروع..
اس سے سب سے بڑا نقصان سوشل میڈیا یا بلاگ پر کام کرنے والے ایسے افراد کا ہورہا ہے کہ جو بیچارے Orignal Content کے کر بٹهیں یا پهر New updated knowledge base contentپر کام کررہے،اور نقصان کچه اس طرح ہورہا ہے کہ ان orignal contentمیں سنسنی یا برہنہ پن نہیں ہوتا جس کی وجہ سے User کو Aattrackبهی نہیں ہوتا اور جب یوزر زیادہ توجہ آپ کے content پر نہیں دےگا تو آٹومیٹک آپ کا content سات تہوں میں دب جائے گا اور سنسنی کانٹینٹ کا بول بالا ہوگا…
لہذا اب ٹهگوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور سوشل میڈیا پر orignal knowledge base or creative base Content کو ترجیح دیکر ٹهگوں کو نظر انداز کرنا ہوگا..وگرنا پهر وہی ہوگا جو yahooچیٹ روم کے ساته ہوا،شہرت کی بلندیوں کو چهوتا ہوا yahooچیٹ روم کو ایک روز مجبورا یاہو کو نہ چاہتے ہوئے بهی بند کرنا پڑا

سوشل میڈیا کے ٹهگوں کی تباہ کاریاں” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں